اللہ آپ کا خالق ہے، آپ کا محافظ ہے، آپ کا رزاق دینے والا ہے۔ اللہ سب پر قادر ہے، رحیم ہے، غفور الرحیم ہے، مہربان ہے۔ آپ اللہ کو اُس کے کلام کے ذریعے جان سکتے ہیں۔ اللہ آپ کی زندگی میں دلچسپی رکھتا ہے، وہ آپ سے محبت کرتا ہے اور آپ کی زندگی کے لیے ایک خوبصورت منصوبہ بنایا ہے۔ اللہ ہر چیز جانتا ہے، اس سے پہلے کہ وہ ہوں، اللہ انہیں پہلے ہی سے جانتا ہے۔ اللہ کی محبت لامحدود ہے۔ کیونکہ میں خداوند تیرا خدا ہوں، جو تیرے داہنے ہاتھ کو تھامے ہوئے ہے، اور تجھ سے کہتا ہے: ڈر مت، میں تیری مدد کروں گا۔ (یسعیاہ 41:13) اللہ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گا، ہمیں صرف اس کے قریب ہونا ہے۔ اللہ تمام چیزوں کا خالق اور رزاق ہے، جو اپنے بیٹے، یسوع مسیح کے ذریعے دنیا کو نجات دیتا ہے۔
شرِیعت کی یہ کِتاب تیرے مُنہ سے نہ ہٹے بلکہ تُجھے دِن اور رات اِسی کا دھیان ہو تاکہ جو کُچھ اِس میں لِکھا ہے اُس سب پر تُو اِحتیاط کر کے عمل کر سکے کیونکہ تب ہی تُجھے اِقبال مندی کی راہ نصِیب ہو گی اور تُو خُوب کامیاب ہو گا۔
آپس کی مُحبّت کے سِوا کِسی چِیز میں کِسی کے قرض دار نہ ہو کیونکہ جو دُوسرے سے مُحبّت رکھتا ہے اُس نے شرِیعت پر پُورا عمل کِیا۔
مُبارک ہے وہ آدمی جو شرِیروں کی صلاح پر نہیں چلتا اور خطاکاروں کی راہ میں کھڑا نہیں ہوتا اور ٹھٹّھابازوں کی مجلِس میں نہیں بَیٹھتابلکہ خُداوند کی شرِیعت میں اُس کی خُوشنُودی ہے اور اُسی کی شرِیعت پر دِن رات اُس کا دِھیان رہتا ہے۔
خُداوند کی شرِیعت کامِل ہے۔ وہ جان کو بحال کرتی ہے۔ خُداوند کی شہادت برحق ہے۔ نادان کو دانِش بخشتی ہے۔
مُجھے فہم عطا کر اور مَیں تیری شرِیعت پر چلُوں گا۔ بلکہ مَیں پُورے دِل سے اُس کو مانُوں گا۔
اِس لِئے کہ جِنہوں نے بغَیر شرِیعت پائے گُناہ کِیا وہ بغَیر شرِیعت کے ہلاک بھی ہوں گے اور جِنہوں نے شرِیعت کے ماتحت ہو کر گُناہ کِیا اُن کی سزا شرِیعت کے مُوافِق ہو گی۔
اور خُداوند نے مُوسیٰؔ سے کہا کہ پہاڑ پر میرے پاس آ اور وہیں ٹھہرا رہ اور مَیں تُجھے پتّھر کی لَوحیں اور شرِیعت اور احکام جو مَیں نے لِکھے ہیں دُوں گا تاکہ تُو اُن کو سِکھائے۔
کیونکہ شرِیعت کے دِئے جانے تک دُنیا میں گُناہ تو تھا مگر جہاں شرِیعت نہیں وہاں گُناہ محسُوب نہیں ہوتا۔
مَیں خُدا کے فضل کو بیکار نہیں کرتا کیونکہ راست بازی اگر شرِیعت کے وسِیلہ سے مِلتی تو مسِیح کا مَرنا عَبث ہوتا۔
مَیں تُم سے صِرف یہ دریافت کرنا چاہتا ہُوں کہ تُم نے شرِیعت کے اَعمال سے رُوح کو پایا یا اِیمان کے پَیغام سے؟
اور خُدا نے یہ سب باتیں فرمائیں کہخُداوند تیرا خُدا جو تُجھے مُلکِ مِصرؔ سے اور غُلامی کے گھر سے نِکال لایا مَیں ہُوں۔میرے حضُور تُو غَیر معبُودوں کو نہ ماننا۔تُو اپنے لِئے کوئی تراشی ہُوئی مُورت نہ بنانا۔ نہ کِسی چِیز کی صُورت بنانا جو اُوپر آسمان میں یا نِیچے زمِین پر یا زمِین کے نِیچے پانی میں ہے۔تُو اُن کے آگے سِجدہ نہ کرنا اور نہ اُن کی عِبادت کرنا کیونکہ مَیں خُداوند تیرا خُدا غیُور خُدا ہُوں اور جو مُجھ سے عداوت رکھتے ہیں اُن کی اَولاد کو تِیسری اور چَوتھی پُشت تک باپ دادا کی بدکاری کی سزا دیتا ہُوں۔اور ہزاروں پر جو مُجھ سے مُحبّت رکھتے اور میرے حُکموں کو مانتے ہیں رحم کرتا ہُوں۔تُو خُداوند اپنے خُدا کا نام بے فائدہ نہ لینا کیونکہ جو اُس کا نام بے فائدہ لیتا ہے خُداوند اُسے بے گُناہ نہ ٹھہرائے گا۔یاد کر کے تُو سبت کا دِن پاک ماننا۔چھ دِن تک تُو مِحنت کر کے اپنا سارا کام کاج کرنا۔لیکن ساتواں دِن خُداوند تیرے خُدا کا سبت ہے اُس میں نہ تو کوئی کام کرے نہ تیرا بیٹا نہ تیری بیٹی نہ تیرا غُلام نہ تیری لَونڈی نہ تیرا چَوپایہ نہ کوئی مُسافِر جو تیرے ہاں تیرے پھاٹکوں کے اندر ہو۔کیونکہ خُداوند نے چھ دِن میں آسمان اور زمِین اور سمُندر اور جو کُچھ اُن میں ہے وہ سب بنایا اور ساتویں دِن آرام کِیا۔ اِس لِئے خُداوند نے سبت کے دِن کو برکت دی اور اُسے مُقدّس ٹھہرایا۔تُو اپنے باپ اور اپنی ماں کی عِزّت کرنا تاکہ تیری عمر اُس مُلک میں جو خُداوند تیرا خُدا تُجھے دیتا ہے دراز ہو۔تُو خُون نہ کرنا۔تُو زِنا نہ کرنا۔تُو چوری نہ کرنا۔تُو اپنے پڑوسی کے خِلاف جُھوٹی گواہی نہ دینا۔تُو اپنے پڑوسی کے گھر کا لالچ نہ کرنا۔ تُو اپنے پڑوسی کی بیوی کا لالچ نہ کرنا اور نہ اُس کے غُلام اور اُس کی لَونڈی اور اُس کے بَیل اور اُس کے گدھے کا اور نہ اپنے پڑوسی کی کِسی اَور چِیز کا لالچ کرنا۔
پس کیا ہُؤا؟ کیا ہم اِس لِئے گُناہ کریں کہ شرِیعت کے ماتحت نہیں بلکہ فضل کے ماتحت ہیں؟ ہرگِز نہیں۔
کیونکہ مَیں آج کے دِن تُجھ کو حُکم کرتا ہُوں کہ تُو خُداوند اپنے خُدا سے مُحبّت رکھّے اور اُس کی راہوں پر چلے اور اُس کے فرمان اور آئِین اور احکام کو مانے تاکہ تُو جِیتا رہے اور بڑھے اور خُداوند تیرا خُدا اُس مُلک میں تُجھ کو برکت بخشے جِس پر قبضہ کرنے کو تُو وہاں جا رہا ہے۔
کیونکہ ساری شرِیعت پر ایک ہی بات سے پُورا عمل ہو جاتا ہے یعنی اِس سے کہ تُو اپنے پڑوسی سے اپنی مانِند مُحبّت رکھ۔
تُو اپنے سارے دِل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت سے خُداوند اپنے خُدا سے مُحبّت رکھ۔اور یہ باتیں جِن کا حُکم آج مَیں تُجھے دیتا ہُوں تیرے دِل پر نقش رہیں۔اور تُو اِن کو اپنی اَولاد کے ذِہن نشِین کرنا اور گھر بَیٹھے اور راہ چلتے اور لیٹتے اور اُٹھتے وقت اِن کا ذِکر کِیا کرنا۔
مگر رُوح کا پھل مُحبّت۔ خُوشی۔ اِطمِینان۔ تحمُّل۔ مِہربانی۔ نیکی۔ اِیمان داری۔حِلم۔ پرہیزگاری ہے۔ اَیسے کاموں کی کوئی شرِیعت مُخالِف نہیں۔
کیونکہ شرِیعت کے اَعمال سے کوئی بشر اُس کے حضُور راست باز نہیں ٹھہرے گا۔ اِس لِئے کہ شرِیعت کے وسِیلہ سے تو گُناہ کی پہچان ہی ہوتی ہے۔
اور مُوسیٰؔ نے لوگوں کے پاس جا کر خُداوند کی سب باتیں اور احکام اُن کو بتا دِئے اور سب لوگوں نے ہم آواز ہو کر جواب دِیا کہ جِتنی باتیں خُداوند نے فرمائی ہیں ہم اُن سب کو مانیں گے۔
اور اُنہوں نے اُس کِتاب یعنی خُدا کی شرِیعت میں سے صاف آواز سے پڑھا۔ پِھر اُس کے معنی بتائے اور اُن کو عِبارت سمجھا دی۔
اور بِیچ میں شرِیعت آ مَوجُود ہُوئی تاکہ گُناہ زِیادہ ہو جائے مگر جہاں گُناہ زِیادہ ہُؤا وہاں فضل اُس سے بھی نِہایت زِیادہ ہُؤا۔تاکہ جِس طرح گُناہ نے مَوت کے سبب سے بادشاہی کی اُسی طرح فضل بھی ہمارے خُداوند یِسُوعؔ مسِیح کے وسِیلہ سے ہمیشہ کی زِندگی کے لِئے راست بازی کے ذرِیعہ سے بادشاہی کرے۔
(الف) مُبارک ہیں وہ جو کامِل رفتار ہیں۔ جو خُداوند کی شرِیعت پر عمل کرتے ہیں۔مُبارک ہیں وہ جو اُس کی شہادتوں کو مانتے ہیں اور پُورے دِل سے اُس کے طالِب ہیں۔
اور اگر تُو خُداوند اپنے خُدا کی بات کو جانفشانی سے مان کر اُس کے اِن سب حُکموں پر جو آج کے دِن مَیں تُجھ کو دیتا ہُوں اِحتیاط سے عمل کرے تو خُداوند تیرا خُدا دُنیا کی سب قَوموں سے زیادہ تُجھ کو سرفراز کرے گا۔
اِس لِئے کہ شرِیعت تو مُوسیٰ کی معرفت دی گئی مگر فضل اور سچّائی یِسُوعؔ مسِیح کی معرفت پُہنچی۔
میری طرف مُتوجِّہ ہو اَے میرے لوگو! میری طرف کان لگا اَے میری اُمّت! کیونکہ شرِیعت مُجھ سے صادِر ہوگی اور مَیں اپنے عدل کو لوگوں کی رَوشنی کے لِئے قائِم کرُوں گا۔
پس ہم کیا کہیں؟ کیا شرِیعت گُناہ ہے؟ ہرگِز نہیں بلکہ بغَیر شرِیعت کے مَیں گُناہ کو نہ پہچانتا مثلاً اگر شرِیعت یہ نہ کہتی کہ تُو لالچ نہ کر تو مَیں لالچ کو نہ جانتا۔
پس شرِیعت مسِیح تک پُہنچانے کو ہمارا اُستاد بنی تاکہ ہم اِیمان کے سبب سے راست باز ٹھہریں۔مگر جب اِیمان آ چُکا تو ہم اُستاد کے ماتحت نہ رہے۔
یہ نہ سمجھو کہ مَیں تَورَیت یا نبِیوں کی کِتابوں کو منسُوخ کرنے آیا ہُوں۔ منسُوخ کرنے نہیں بلکہ پُورا کرنے آیا ہُوں۔کیونکہ مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جب تک آسمان اور زمِین ٹل نہ جائیں ایک نُقطہ یا ایک شوشہ تَورَیت سے ہرگِز نہ ٹلے گا جب تک سب کُچھ پُورا نہ ہو جائے۔
خُداوند کی شرِیعت کامِل ہے۔ وہ جان کو بحال کرتی ہے۔ خُداوند کی شہادت برحق ہے۔ نادان کو دانِش بخشتی ہے۔خُداوند کے قوانِین راست ہیں۔ وہ دِل کو فرحت پُہنچاتے ہیں۔ خُداوند کا حُکم بے عَیب ہے۔ وہ آنکھوں کو رَوشن کرتا ہے۔خُداوند کا خَوف پاک ہے۔ وہ ابد تک قائِم رہتا ہے۔ خُداوند کے احکام برحق اور بالکُل راست ہیں۔وہ سونے سے بلکہ بُہت کُندن سے زِیادہ پسندِیدہ ہیں۔ وہ شہد سے بلکہ چھتّے کے ٹپکوں سے بھی شِیرِین ہیں۔نیز اُن سے تیرے بندے کو آگاہی مِلتی ہے۔ اُن کو ماننے کا اجر بڑا ہے۔
پس اَے اِسرائیلؔ! خُداوند تیرا خُدا تُجھ سے اِس کے سِوا اور کیا چاہتا ہے کہ تُو خُداوند اپنے خُدا کا خَوف مانے اور اُس کی سب راہوں پر چلے اور اُس سے مُحبّت رکھّے اور اپنے سارے دِل اور اپنی ساری جان سے خُداوند اپنے خُدا کی بندگی کرے۔اور خُداوند کے جو احکام اور آئِین مَیں تُجھ کو آج بتاتا ہُوں اُن پر عمل کرے تاکہ تیری خَیر ہو؟
اگر ہم اُس کے حُکموں پر عمل کریں گے تو اِس سے ہمیں معلُوم ہو گا کہ ہم اُسے جان گئے ہیں۔جو کوئی یہ کہتا ہے کہ مَیں اُسے جان گیا ہُوں اور اُس کے حُکموں پر عمل نہیں کرتا وہ جُھوٹا ہے اور اُس میں سچّائی نہیں۔
اِس لِئے کہ گُناہ کا تُم پر اِختیار نہ ہو گا کیونکہ تُم شرِیعت کے ماتحت نہیں بلکہ فضل کے ماتحت ہو۔
پِھر خُداوند فرماتا ہے کہ جو عہد اِسرائیلؔ کے گھرانے سے اُن دِنوں کے بعد باندُھوں گا وہ یہ ہے کہ مَیں اپنے قانُون اُن کے ذِہن میں ڈالوں گا اور اُن کے دِلوں پر لِکُھوں گا اور مَیں اُن کا خُدا ہُوں گا اور وہ میری اُمّت ہوں گے۔
اُس نے اُس سے کہا کہ خُداوند اپنے خُدا سے اپنے سارے دِل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل سے مُحبّت رکھ۔بڑا اور پہلا حُکم یِہی ہے۔اور دُوسرا اِس کی مانِند یہ ہے کہ اپنے پڑوسی سے اپنے برابر مُحبّت رکھ۔اِن ہی دو حُکموں پر تمام تَورَیت اور انبِیا کے صحِیفوں کا مدار ہے۔
آپس کی مُحبّت کے سِوا کِسی چِیز میں کِسی کے قرض دار نہ ہو کیونکہ جو دُوسرے سے مُحبّت رکھتا ہے اُس نے شرِیعت پر پُورا عمل کِیا۔کیونکہ یہ باتیں کہ زِنا نہ کر۔ خُون نہ کر۔ چوری نہ کر۔ لالچ نہ کر اور اِن کے سِوا اَور جو کوئی حُکم ہو اُن سب کا خُلاصہ اِس بات میں پایا جاتا ہے کہ اپنے پڑوسی سے اپنی مانِند مُحبّت رکھ۔محُبّت اپنے پڑوسی سے بدی نہیں کرتی۔ اِس واسطے مُحبّت شرِیعت کی تعمِیل ہے۔
لیکن جو شخص آزادی کی کامِل شرِیعت پر غَور سے نظر کرتا رہتا ہے وہ اپنے کام میں اِس لِئے برکت پائے گا کہ سُن کر بُھولتا نہیں بلکہ عمل کرتا ہے۔
کیونکہ جِتنے شرِیعت کے اَعمال پر تکیہ کرتے ہیں وہ سب لَعنت کے ماتحت ہیں۔ چُنانچہ لِکھا ہے کہ جو کوئی اُن سب باتوں کے کرنے پر قائِم نہیں رہتا جو شرِیعت کی کِتاب میں لِکھّی ہیں وہ لَعنتی ہے۔
تیری شرِیعت سے مُحبّت رکھنے والے مُطمئن ہیں۔ اُن کے لِئے ٹھوکر کھانے کا کوئی مَوقع نہیں۔
مُبارک ہے وہ آدمی جو شرِیروں کی صلاح پر نہیں چلتا اور خطاکاروں کی راہ میں کھڑا نہیں ہوتا اور ٹھٹّھابازوں کی مجلِس میں نہیں بَیٹھتابلکہ خُداوند کی شرِیعت میں اُس کی خُوشنُودی ہے اور اُسی کی شرِیعت پر دِن رات اُس کا دِھیان رہتا ہے۔وہ اُس درخت کی مانِند ہو گا جو پانی کی ندیوں کے پاس لگایا گیا ہے۔ جو اپنے وقت پر پھلتا ہے اور جِس کا پتّا بھی نہیں مُرجھاتا۔ سو جو کُچھ وہ کرے باروَر ہو گا۔
بُرائی کرنے کے لِئے کِسی بِھیڑ کی پَیروی نہ کرنا اور نہ کِسی مُقدّمہ میں اِنصاف کا خُون کرانے کے لِئے بِھیڑ کا مُنہ دیکھ کر کُچھ کہنا۔
تُو اِنتقام نہ لینا اور نہ اپنی قَوم کی نسل سے کِینہ رکھنا بلکہ اپنے ہمسایہ سے اپنی مانِند مُحبّت کرنا۔ مَیں خُداوند ہُوں۔
شرِیعت کو ترک کرنے والے شرِیروں کی تعرِیف کرتے ہیں لیکن شرِیعت پر عمل کرنے والے اُن کا مُقابلہ کرتے ہیں۔
کیونکہ شرِیعت جِس میں آیندہ کی اچھّی چِیزوں کا عکس ہے اور اُن چِیزوں کی اصلی صُورت نہیں اُن ایک ہی طرح کی قُربانِیوں سے جو ہر سال بِلاناغہ گُذرانی جاتی ہیں پاس آنے والوں کو ہرگِز کامِل نہیں کر سکتی۔
شرِیعت اور انبِیا یُوحنّا تک رہے۔ اُس وقت سے خُدا کی بادشاہی کی خُوشخبری دی جاتی ہے اور ہر ایک زور مار کر اُس میں داخِل ہوتا ہے۔
اِس لِئے کہ جو کام شرِیعت جِسم کے سبب سے کمزور ہو کر نہ کر سکی وہ خُدا نے کِیا یعنی اُس نے اپنے بیٹے کو گُناہ آلُودہ جِسم کی صُورت میں اور گُناہ کی قُربانی کے لِئے بھیج کر جِسم میں گُناہ کی سزا کا حُکم دِیا۔تاکہ شرِیعت کا تقاضا ہم میں پُورا ہو جو جِسم کے مُطابِق نہیں بلکہ رُوح کے مُطابِق چلتے ہیں۔
سو تُو اُس کے آئِین اور احکام کو جو مَیں تُجھ کو آج بتاتا ہُوں ماننا تاکہ تیرا اور تیرے بعد تیری اَولاد کا بھلا ہو اور ہمیشہ اُس مُلک میں جو خُداوند تیرا خُدا تُجھ کو دیتا ہے تیری عُمر دراز ہو۔
پس جو کوئی اِن چھوٹے سے چھوٹے حُکموں میں سے بھی کِسی کو توڑے گا اور یہی آدمِیوں کو سِکھائے گا وہ آسمان کی بادشاہی میں سب سے چھوٹا کہلائے گا لیکن جو اُن پر عمل کرے گا اور اُن کی تعلِیم دے گا وہ آسمان کی بادشاہی میں بڑا کہلائے گا۔
بے شرع لوگوں کے لِئے بے شرع بنا تاکہ بے شرع لوگوں کو کھینچ لاؤں (اگرچہ خُدا کے نزدِیک بے شرع نہ تھا بلکہ مسِیح کی شرِیعت کے تابِع تھا)۔
تَو بھی یہ جان کر کہ آدمی شرِیعت کے اَعمال سے نہیں بلکہ صِرف یِسُوعؔ مسِیح پر اِیمان لانے سے راست باز ٹھہرتا ہے خُود بھی مسِیح یِسُوعؔ پر اِیمان لائے تاکہ ہم مسِیح پر اِیمان لانے سے راست باز ٹھہریں نہ کہ شرِیعت کے اَعمال سے۔ کیونکہ شرِیعت کے اَعمال سے کوئی بشر راست باز نہ ٹھہرے گا۔
کیونکہ شرِیعت کے سُننے والے خُدا کے نزدِیک راست باز نہیں ہوتے بلکہ شرِیعت پر عمل کرنے والے راست باز ٹھہرائے جائیں گے۔
کیونکہ جِس نے ساری شرِیعت پر عمل کِیا اور ایک ہی بات میں خطا کی وہ سب باتوں میں قصُوروار ٹھہرا۔
اور جب وہ تختِ سلطنت پر جلُوس کرے تو اُس شرِیعت کی جو لاوی کاہِنوں کے پاس رہے گی ایک نقل اپنے لِئے ایک کِتاب میں اُتار لے۔اور وہ اُسے اپنے پاس رکھّے اور اپنی ساری عُمر اُس کو پڑھا کرے تاکہ وہ خُداوند اپنے خُدا کا خَوف ماننا اور اُس شرِیعت اور آئِین کی سب باتوں پر عمل کرنا سِیکھے۔جِس سے اُس کے دِل میں غرُور نہ ہو کہ وہ اپنے بھائِیوں کو حقِیر جانے اور اِن احکام سے نہ تو دہنے نہ بائیں مُڑے تاکہ اِسرائیلیوں کے درمیان اُس کی اور اُس کی اَولاد کی سلطنت مُدّت تک رہے۔
مَیں نے اپنی روِشوں کا اِظہار کِیا اور تُو نے مُجھے جواب دِیا۔ مُجھے اپنے آئِین کی تعلِیم دے۔
تُم جو شرِیعت کے وسِیلہ سے راست باز ٹھہرنا چاہتے ہو مسِیح سے الگ ہو گئے اور فضل سے محرُوم۔
سو خُداوند نے ہم کو اِن سب احکام پر عمل کرنے اور ہمیشہ اپنی بھلائی کے لِئے خُداوند اپنے خُدا کا خَوف ماننے کا حُکم دِیا ہے تاکہ وہ ہم کو زِندہ رکھّے جَیسا آج کے دِن ظاہرِ ہے۔
اور حُکموں کی وہ دستاوِیز مِٹا ڈالی جو ہمارے نام پر اور ہمارے خِلاف تھی اور اُس کو صلِیب پر کِیلوں سے جَڑ کر سامنے سے ہٹا دِیا۔
خُداوند کو پسند آیا کہ اپنی صداقت کی خاطِر شرِیعت کو بزُرگی دے اور اُسے قابِلِ تعظِیم بنائے۔
پس جو کُچھ تُم چاہتے ہو کہ لوگ تُمہارے ساتھ کریں وُہی تُم بھی اُن کے ساتھ کرو کیونکہ تَورَیت اور نبیوں کی تعلِیم یِہی ہے۔
حالانکہ وہ خُدا کا یہ حُکم جانتے ہیں کہ اَیسے کام کرنے والے مَوت کی سزا کے لائِق ہیں۔ پِھر بھی نہ فقط آپ ہی اَیسے کام کرتے ہیں بلکہ اَور کرنے والوں سے بھی خُوش ہوتے ہیں۔
اور اگر تُو خُداوند اپنے خُدا کی بات کو جانفشانی سے مان کر اُس کے اِن سب حُکموں پر جو آج کے دِن مَیں تُجھ کو دیتا ہُوں اِحتیاط سے عمل کرے تو خُداوند تیرا خُدا دُنیا کی سب قَوموں سے زیادہ تُجھ کو سرفراز کرے گا۔اور اگر تُو خُداوند اپنے خُدا کی بات سُنے تو یہ سب برکتیں تُجھ پر نازِل ہوں گی اور تُجھ کو مِلیں گی۔
پس شرِیعت کیا رہی؟ وہ نافرمانِیوں کے سبب سے بعد میں دی گئی کہ اُس نسل کے آنے تک رہے جِس سے وعدہ کِیا گیا تھا اور وہ فرِشتوں کے وسِیلہ سے ایک درمِیانی کی معرفت مُقرّر کی گئی۔
لیکن اگر مَیں خُدا کے رُوح کی مدد سے بدرُوحوں کو نِکالتا ہُوں تو خُدا کی بادشاہی تُمہارے پاس آ پُہنچی۔
اِس لِئے کہ جب وہ قَومیں جو شرِیعت نہیں رکھتِیں اپنی طبِیعت سے شرِیعت کے کام کرتی ہیں تو باوُجُود شرِیعت نہ رکھنے کے وہ اپنے لِئے خُود ایک شرِیعت ہیں۔چُنانچہ وہ شرِیعت کی باتیں اپنے دِلوں پر لِکھی ہُوئی دِکھاتی ہیں اور اُن کا دِل بھی اُن باتوں کی گواہی دیتا ہے اور اُن کے باہمی خیالات یا تو اُن پر اِلزام لگاتے ہیں یا اُن کو معذُور رکھتے ہیں۔
تَو بھی اگر تُم اِس نوِشتہ کے مُطابِق کہ اپنے پڑوسی سے اپنی مانِند مُحبّت رکھ اُس بادشاہی شرِیعت کو پُورا کرتے ہو تو اچّھا کرتے ہو۔
لیکن خُداوند کی شفقت اُس سے ڈرنے والوں پر ازل سے ابد تک اور اُس کی صداقت نسل در نسل ہے۔یعنی اُن پر جو اُس کے عہد پر قائِم رہتے ہیں اور اُس کے قوانِین پر عمل کرنا یاد رکھتے ہیں۔
شرِیعت اور شہادت پر نظر کرو۔ اگر وہ اِس کلام کے مُطابِق نہ بولیں تو اُن کے لِئے صُبح نہ ہو گی۔
سب کے ساتھ میل مِلاپ رکھنے اور اُس پاکِیزگی کے طالِب رہو جِس کے بغَیر کوئی خُداوند کو نہ دیکھے گا۔
اور مُوسیٰ نے اِس شرِیعت کو لِکھ کر اُسے کاہِنوں کے جو بنی لاوی اور خُداوند کے عہد کے صندُوق کے اُٹھانے والے تھے اور اِسرائیلؔ کے سب بزُرگوں کے سپُرد کِیا۔پِھر مُوسیٰ نے اُن کو یہ حُکم دِیا کہ ہر سات برس کے آخِر میں چُھٹکارے کے سال کے مُعیّن وقت پر عِیدِ خیام میں۔جب سب اِسرائیلی خُداوند تیرے خُدا کے حضُور اُس جگہ آ کر حاضِر ہوں جِسے وہ خُود چُنے گا تو تُو اِس شرِیعت کو پڑھ کر سب اِسرائیلِیوں کو سُنانا۔تُو سب لوگوں کو یعنی مَردوں اور عَورتوں اور بچّوں اور اپنی بستِیوں کے مُسافِروں کو جمع کرنا تاکہ وہ سُنیں اور سِیکھیں اور خُداوند تُمہارے خُدا کا خَوف مانیں اور اِس شرِیعت کی سب باتوں پر اِحتیاط رکھ کر عمل کریں۔اور اُن کے لڑکے جِن کو کُچھ معلُوم نہیں وہ بھی سُنیں اور جب تک تُم اُس مُلک میں جِیتے رہو جِس پر قبضہ کرنے کو تُم یَردن پار جاتے ہو تب تک وہ برابر خُداوند تُمہارے خُدا کا خَوف ماننا سِیکھیں۔
خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ عدل کو قائِم رکھّو اور صداقت کو عمل میں لاؤ کیونکہ میری نجات نزدِیک ہے اور میری صداقت ظاہِر ہونے والی ہے۔
اَے میرے بیٹے! میری تعلِیم کو فراموش نہ کر۔ بلکہ تیرا دِل میرے حُکموں کو مانے۔کیونکہ تُو اِن سے عُمر کی درازی اور پِیری اور سلامتی حاصِل کرے گا۔
جب ہم خُدا سے مُحبّت رکھتے اور اُس کے حُکموں پر عمل کرتے ہیں تو اِس سے معلُوم ہو جاتا ہے کہ خُدا کے فرزندوں سے بھی مُحبّت رکھتے ہیں۔اور خُدا کی مُحبّت یہ ہے کہ ہم اُس کے حُکموں پر عمل کریں اور اُس کے حُکم سخت نہیں۔
کیونکہ خُدا کی بادشاہی کھانے پِینے پر نہیں بلکہ راست بازی اور میل مِلاپ اور اُس خُوشی پر مَوقُوف ہے جو رُوحُ القُدس کی طرف سے ہوتی ہے۔
خُداوند کے قوانِین راست ہیں۔ وہ دِل کو فرحت پُہنچاتے ہیں۔ خُداوند کا حُکم بے عَیب ہے۔ وہ آنکھوں کو رَوشن کرتا ہے۔
اَے بھائِیو! تُم آزادی کے لِئے بُلائے تو گئے ہو مگر اَیسا نہ ہو کہ وہ آزادی جِسمانی باتوں کا مَوقع بنے بلکہ مُحبّت کی راہ سے ایک دُوسرے کی خِدمت کرو۔
خُداوند تُجھ پر رحم کرنے والا یُوں فرماتا ہے کہ پہاڑ تو جاتے رہیں اور ٹِیلے ٹل جائیں لیکن میری شفقت کبھی تُجھ پر سے جاتی نہ رہے گی اور میرا صُلح کا عہد نہ ٹلے گا۔
مسِیح کے کلام کو اپنے دِلوں میں کثرت سے بسنے دو اور کمال دانائی سے آپس میں تعلِیم اور نصِیحت کرو اور اپنے دِلوں میں فضل کے ساتھ خُدا کے لِئے مزامِیر اور گِیت اور رُوحانی غزلیں گاؤ۔اور کلام یا کام جو کُچھ کرتے ہو وہ سب خُداوند یِسُوعؔ کے نام سے کرو اور اُسی کے وسِیلہ سے خُدا باپ کا شُکر بجا لاؤ۔
ہر شخص اعلیٰ حُکُومتوں کا تابِع دار رہے کیونکہ کوئی حُکُومت اَیسی نہیں جو خُدا کی طرف سے نہ ہو اور جو حُکُومتیں مَوجُود ہیں وہ خُدا کی طرف سے مُقرّر ہیں۔پس جو کوئی حُکُومت کا سامنا کرتا ہے وہ خُدا کے اِنتِظام کا مُخالِف ہے اور جو مُخالِف ہیں وہ سزا پائیں گے۔
سب چِیزیں میرے لِئے روا تو ہیں مگر سب چِیزیں مُفِید نہیں۔ سب چِیزیں میرے لِئے روا تو ہیں لیکن مَیں کِسی چِیز کا پابند نہ ہُوں گا۔
کیونکہ خُدا کا کلام زِندہ اور مُؤثِر اور ہر ایک دو دھاری تلوار سے زِیادہ تیز ہے اور جان اور رُوح اور بند بند اور گُودے کو جُدا کر کے گُذر جاتا ہے اور دِل کے خیالوں اور اِرادوں کو جانچتا ہے۔
بلکہ تُم پہلے اُس کی بادشاہی اور اُس کی راست بازی کی تلاش کرو تو یہ سب چِیزیں بھی تُم کو مِل جائیں گی۔
اب سب کُچھ سُنایا گیا۔ حاصِلِ کلام یہ ہے۔ خُدا سے ڈر اور اُس کے حُکموں کو مان کہ اِنسان کا فرضِ کُلّی یِہی ہے۔کیونکہ خُدا ہر ایک فِعل کو ہر ایک پوشِیدہ چِیز کے ساتھ خواہ بھلی ہو خواہ بُری عدالت میں لائے گا۔
مُجھ سے کہو تو۔ تُم جو شرِیعت کے ماتحت ہونا چاہتے ہو کیا شرِیعت کی بات کو نہیں سُنتے؟یہ لِکھا ہے کہ ابرہامؔ کے دو بیٹے تھے۔ ایک لَونڈی سے۔ دُوسرا آزاد سے۔مگر لَونڈی کا بیٹا جِسمانی طَور پر اور آزاد کا بیٹا وعدہ کے سبب سے پَیدا ہُؤا۔اِن باتوں میں تمثِیل پائی جاتی ہے اِس لِئے کہ یہ عَورتیں گویا دو عہد ہیں۔ ایک کوہِ سِینا پر کا جِس سے غُلام ہی پَیدا ہوتے ہیں اور وہ ہاجرؔہ ہے۔
غرض پہلے عہد میں بھی عِبادت کے احکام تھے اور اَیسا مَقدِس جو دُنیَوی تھا۔یعنی ایک خَیمہ بنایا گیا تھا۔ اگلے میں چراغ دان اور میز اور نذر کی روٹِیاں تِھیں اور اُسے پاک مکان کہتے ہیں۔
لیکن تُم ایک برگُزِیدہ نسل۔ شاہی کاہِنوں کا فِرقہ۔ مُقدّس قَوم اور اَیسی اُمّت ہو جو خُدا کی خاص مِلکِیّت ہے تاکہ اُس کی خُوبِیاں ظاہِر کرو جِس نے تُمہیں تارِیکی سے اپنی عجِیب رَوشنی میں بُلایا ہے۔
اِس لِئے کہ سب نے گُناہ کِیا اور خُدا کے جلال سے محرُوم ہیں۔مگر اُس کے فضل کے سبب سے اُس مخلصی کے وسِیلہ سے جو مسِیح یِسُوعؔ میں ہے مُفت راست باز ٹھہرائے جاتے ہیں۔