اپنے جوانی کے دنوں میں خوش رہو اور ان سے لطف اٹھاؤ۔ ان قیمتی لمحات کو اللہ کے منصوبوں کے لیے وقف کرو۔ اپنی جوانی کی توانائی سے فائدہ اٹھاؤ اور کبھی بھی اپنی عمر کی وجہ سے خود کو کم تر نہ سمجھو۔
جوانی میں اکثر مستقبل کے بارے میں فکر اور مایوسی گھیر لیتی ہے، اور کبھی کبھی تم بہت بوجھل محسوس کر سکتے ہو۔ لیکن اپنے خالق اللہ پر بھروسہ رکھو، وہ تمہاری زندگی کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھے ہوئے ہے۔ پورے دل سے اسے تلاش کرو اور ہر دن اپنے آپ کو اس کے نزدیک پاک رکھو۔
جہاں بھی جاؤ، محبت، گفتار، کردار، ایمان اور پاکیزگی میں ایک مثال قائم کرو۔ اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں فرماتا ہے کہ نوجوان اپنے راستے کو اپنے کلام سے صاف رکھے گا۔ ہر روز اس کے کلام کی تلاش کرو اور تمہیں اپنی زندگی میں کامیابی ملے گی۔
اپنے آسمانی باپ کے قریب رہنے کے لیے ہر لمحے سے فائدہ اٹھاؤ، اس سے پہلے کہ وہ دن آئیں جب تمہیں اتنی خوشی نہ ملے، اتنی طاقت نہ رہے جتنی آج ہے، یا اتنا وقت نہ ملے جتنا آج تمہارے پاس ہے۔ تم اللہ کے لیے بہت اہم ہو، اس نے تمہاری زندگی کے لیے ایک بہترین منصوبہ بنایا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اسے تم میں پورا کرے۔ اسے تلاش کرو اور وہ اپنا منصوبہ تمہارے دل میں ڈال دے گا۔ (۱- تیموتاؤس ۴:۱۲) کوئی بھی تمہاری جوانی کو حقیر نہ سمجھے بلکہ کلام، چال چلن، محبت، روح، ایمان اور پاکیزگی میں ایمان والوں کے لیے ایک مثال بنو۔
بے اِیمانوں کے ساتھ ناہموار جُوئے میں نہ جُتو کیونکہ راست بازی اور بے دِینی میں کیا میل جول؟ یا رَوشنی اور تارِیکی میں کیا شِراکت؟
کیونکہ خُداوند اِسرائیل کا خُدا فرماتا ہے مَیں طلاق سے بیزار ہُوں اور اُس سے بھی جو اپنی بِیوی پر ظُلم کرتا ہے ربُّ الافواج فرماتا ہے اِس لِئے تُم اپنے نفس سے خبردار رہو تاکہ بیوفائی نہ کرو۔
وہ دِین داری کی وضع تو رکھّیں گے مگر اُس کے اثر کو قبُول نہ کریں گے اَیسوں سے بھی کنارہ کرنا۔
تُو اُن سے بیاہ شادی بھی نہ کرنا۔ نہ اُن کے بیٹوں کو اپنی بیٹِیاں دینا اور نہ اپنے بیٹوں کے لِئے اُن کی بیٹِیاں لینا۔
کیونکہ وہ تیرے بیٹوں کو میری پَیروی سے برگشتہ کر دیں گے تاکہ وہ اَور معبُودوں کی عِبادت کریں۔ یُوں خُداوند کا غضب تُم پر بھڑکے گا اور وہ تُجھ کو جلد ہلاک کر دے گا۔
اَے پیارے! بدی کی نہیں بلکہ نیکی کی پَیروی کر۔ نیکی کرنے والا خُدا سے ہے۔ بدی کرنے والے نے خُدا کو نہیں دیکھا۔
اَے زِنا کرنے والیو! کیا تُمہیں نہیں معلُوم کہ دُنیا سے دوستی رکھنا خُدا سے دُشمنی کرنا ہے؟ پس جو کوئی دُنیا کا دوست بننا چاہتا ہے وہ اپنے آپ کو خُدا کا دُشمن بناتا ہے۔
نہ دُنیا سے مُحبّت رکھّو نہ اُن چِیزوں سے جو دُنیا میں ہیں۔ جو کوئی دُنیا سے مُحبّت رکھتا ہے اُس میں باپ کی مُحبّت نہیں۔
بے اِیمانوں کے ساتھ ناہموار جُوئے میں نہ جُتو کیونکہ راست بازی اور بے دِینی میں کیا میل جول؟ یا رَوشنی اور تارِیکی میں کیا شِراکت؟
مسِیح کو بلِیعال کے ساتھ کیا مُوافقت؟ یا اِیمان دار کا بے اِیمان سے کیا واسطہ؟
ورنہ اگر تُم کِسی طرح برگشتہ ہو کر اِن قَوموں کے بقِیّہ سے یعنی اُن سے جو تُمہارے درمِیان باقی ہیں شِیر و شکر ہو جاؤ اور اُن کے ساتھ بیاہ شادی کرو اور اُن سے مِلو اور وہ تُم سے مِلیں۔
تو یقِین جانو کہ خُداوند تُمہارا خُدا پِھر اِن قَوموں کو تُمہارے سامنے سے دفع نہیں کرے گا بلکہ یہ تُمہارے لِئے جال اور پھندا اور تُمہارے پہلُوؤں کے لِئے کوڑے اور تُمہاری آنکھوں میں کانٹوں کی طرح ہوں گی۔ یہاں تک کہ تُم اِس اچّھے مُلک سے جِسے خُداوند تُمہارے خُدا نے تُم کو دِیا ہے نابُود ہو جاؤ گے۔
اِس واسطے خُداوند فرماتا ہے کہ اُن میں سے نِکل کر الگ رہو اور ناپاک چِیز کو نہ چُھوؤ تو مَیں تُم کو قبُول کر لُوں گا۔
تُم ہوشیار اور بیدار رہو۔ تُمہارا مُخالِف اِبلِیس گرجنے والے شیرِ بَبر کی طرح ڈُھونڈتا پِھرتا ہے کہ کِس کو پھاڑ کھائے۔
یہ اُن قَوموں کی تِھیں جِن کی بابت خُداوند نے بنی اِسرائیل سے کہا تھا کہ تُم اُن کے بِیچ نہ جانا اور نہ وہ تُمہارے بِیچ آئیں کیونکہ وہ ضرُور تُمہارے دِلوں کو اپنے دیوتاؤں کی طرف مائِل کر لیں گی۔ سُلیماؔن اِن ہی کے عِشق کا دَم بھرنے لگا۔
پس اُن کے کاموں میں شرِیک نہ ہو۔
کیونکہ تُم پہلے تارِیکی تھے مگر اب خُداوند میں نُور ہو۔ پس نُور کے فرزندوں کی طرح چلو۔
پِھر مَیں نے آسمان میں کِسی اَور کو یہ کہتے سُنا کہ اَے میری اُمّت کے لوگو! اُس میں سے نِکل آؤ تاکہ تُم اُس کے گُناہوں میں شرِیک نہ ہو اور اُس کی آفتوں میں سے کوئی تُم پر نہ آ جائے۔
جب تک کہ عَورت کا شَوہر جِیتا ہے وہ اُس کی پابند ہے پر جب اُس کا شَوہر مَر جائے تو جِس سے چاہے بیاہ کر سکتی ہے مگر صِرف خُداوند میں۔
سو تُم اپنی بیٹِیاں اُن کے بیٹوں کو نہ دینا اور اُن کی بیٹِیاں اپنے بیٹوں کے لِئے نہ لینا اور نہ کبھی اُن کی سلامتی یا اِقبال مندی چاہنا تاکہ تُم مضبُوط بنو اور اُس مُلک کی اچّھی اچّھی چِیزیں کھاؤ اور اپنی اَولاد کے واسطے ہمیشہ کی مِیراث کے لِئے اُسے چھوڑ جاؤ۔
مسِیح نے ہمیں آزاد رہنے کے لِئے آزاد کِیا ہے پس قائِم رہو اور دوبارہ غُلامی کے جُوئے میں نہ جُتو۔
میرا جُؤا اپنے اُوپر اُٹھا لو اور مُجھ سے سِیکھو۔ کیونکہ مَیں حلِیم ہُوں اور دِل کا فروتن۔ تو تُمہاری جانیں آرام پائیں گی۔
کیونکہ میرا جُؤا مُلائِم ہے اور میرا بوجھ ہلکا۔
یہ اُن قَوموں کی تِھیں جِن کی بابت خُداوند نے بنی اِسرائیل سے کہا تھا کہ تُم اُن کے بِیچ نہ جانا اور نہ وہ تُمہارے بِیچ آئیں کیونکہ وہ ضرُور تُمہارے دِلوں کو اپنے دیوتاؤں کی طرف مائِل کر لیں گی۔ سُلیماؔن اِن ہی کے عِشق کا دَم بھرنے لگا۔
اور اُس کے پاس سات سَو شاہزادِیاں اُس کی بِیویاں اور تِین سَو حرمیں تِھیں اور اُس کی بِیوِیوں نے اُس کے دِل کو پھیر دِیا۔
اور سُلیماؔن بادشاہ فرِعونؔ کی بیٹی کے علاوہ بُہت سی اجنبی عَورتوں سے یعنی موآبی۔ عمُّونی۔ ادُومی۔ صَیدانی اور حِتّی عَورتوں سے مُحبّت کرنے لگا۔
غُصّہ ور آدمی سے دوستی نہ کر اور غضب ناک شخص کے ساتھ نہ جا۔
مبادا تُو اُس کی روِشیں سِیکھئے اور اپنی جان کو پھندے میں پھنسائے
اب اَے بھائِیو! مَیں تُم سے اِلتماس کرتا ہُوں کہ جو لوگ اُس تعلِیم کے برخِلاف جو تُم نے پائی پُھوٹ پڑنے اور ٹھوکر کھانے کا باعِث ہیں اُن کو تاڑ لِیا کرو اور اُن سے کنارہ کِیا کرو۔
کوئی آدمی دو مالِکوں کی خِدمت نہیں کر سکتا کیونکہ یا تو ایک سے عداوت رکھّے گا اور دُوسرے سے مُحبّت۔ یا ایک سے مِلا رہے گا اور دُوسرے کو ناچِیز جانے گا۔ تُم خُدا اور دَولت دونوں کی خِدمت نہیں کر سکتے۔
اگر تُم دُنیا کے ہوتے تو دُنیا اپنوں کو عزِیز رکھتی لیکن چُونکہ تُم دُنیا کے نہیں بلکہ مَیں نے تُم کو دُنیا میں سے چُن لِیا ہے اِس واسطے دُنیا تُم سے عداوت رکھتی ہے۔
مُبارک ہے وہ آدمی جو شرِیروں کی صلاح پر نہیں چلتا اور خطاکاروں کی راہ میں کھڑا نہیں ہوتا اور ٹھٹّھابازوں کی مجلِس میں نہیں بَیٹھتا
بلکہ خُداوند کی شرِیعت میں اُس کی خُوشنُودی ہے اور اُسی کی شرِیعت پر دِن رات اُس کا دِھیان رہتا ہے۔
اور اِس جہان کے ہم شکل نہ بنو بلکہ عقل نئی ہو جانے سے اپنی صُورت بدلتے جاؤ تاکہ خُدا کی نیک اور پسندِیدہ اور کامِل مرضی تجربہ سے معلُوم کرتے رہو۔
اَے مِحنت اُٹھانے والو اور بوجھ سے دبے ہُوئے لوگو سب میرے پاس آؤ۔ مَیں تُم کو آرام دُوں گا۔
میرا جُؤا اپنے اُوپر اُٹھا لو اور مُجھ سے سِیکھو۔ کیونکہ مَیں حلِیم ہُوں اور دِل کا فروتن۔ تو تُمہاری جانیں آرام پائیں گی۔
کیونکہ میرا جُؤا مُلائِم ہے اور میرا بوجھ ہلکا۔
اور خُدا نے خُداوند کو بھی جِلایا اور ہم کو بھی اپنی قُدرت سے جِلائے گا۔
کیا تُم نہیں جانتے کہ تُمہارے بدن مسِیح کے اعضا ہیں؟ پس کیا مَیں مسِیح کے اعضا لے کر کَسبی کے اعضا بناؤں؟ ہرگِز نہیں!
کیا تُم نہیں جانتے کہ جو کوئی کَسبی سے صُحبت کرتا ہے وہ اُس کے ساتھ ایک تن ہوتا ہے؟ کیونکہ وہ فرماتا ہے کہ وہ دونوں ایک تَن ہوں گے۔
کِسی شخص پر جلد ہاتھ نہ رکھنا اور دُوسروں کے گُناہوں میں شرِیک نہ ہونا۔ اپنے آپ کو پاک رکھنا۔
جوانی کی خواہِشوں سے بھاگ اور جو پاک دِل کے ساتھ خُداوند سے دُعا کرتے ہیں اُن کے ساتھ راست بازی اور اِیمان اور مُحبّت اور صُلح کا طالِب ہو۔
اور فرمانبردار فرزند ہو کر اپنی جہالت کے زمانہ کی پُرانی خواہِشوں کے تابِع نہ بنو۔
بلکہ جِس طرح تُمہارا بُلانے والا پاک ہے اُسی طرح تُم بھی اپنے سارے چال چلن میں پاک بنو۔
کیونکہ لِکھا ہے کہ پاک ہو اِس لِئے کہ مَیں پاک ہُوں۔